واشنگٹن (ابلاغ نیوز)امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری جانب خلیجی ممالک نے ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے دعوے کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ایک نئے سلسلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد تہران کی عسکری طاقت کو کمزور کرنا اور اسے مذاکرات پر آمادہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج خطے میں مزید گولہ بارود جمع کرنے اور طیاروں کو ممکنہ حملوں کے لیے تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ پروازوں کی نگرانی سے متعلق معلومات کے مطابق امریکا ٹیکساس سے اسرائیل کو اضافی پیٹریاٹ دفاعی نظام بھیج رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر لیکن شدید فوجی کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان حملوں کے آغاز کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب جنگ کے خدشات کے پیش نظر خلیجی ممالک نے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطری ثالثوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو ایک نئے معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے، جو اتوار کو تہران کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے جواب کا ہفتے کے اختتام تک انتظار کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ معاہدے میں سات روز کی مدت مقرر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پابندیاں اٹھائے جانے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو سات روز کے بجائے چار روز میں کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ معاہدے میں یمن کی حوثی ملیشیا سے متعلق شرائط بھی شامل بتائی گئی ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے خطے کے ممالک فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے سرگرم ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے آئندہ اقدامات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
:مزید پڑھیں






