لندن(ویب ڈیسک)ایپل کا پہلا فولڈ ایبل فون متعارف کرائے جانے کے بعد دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تقریباً 2 ہزار امریکی ڈالر قیمت رکھنے والے اس فون کی فروخت شروع ہوگئی ہے، تاہم محدود دستیابی کے باعث خریداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس بار لانچ کے موقع پر ماضی کے آئی فونز جیسا جوش و خروش بھی نسبتاً کم دکھائی دیا۔
سنگاپور، شنگھائی، لندن اور سان فرانسسکو سمیت مختلف شہروں میں صارفین نئے فون کی خریداری کے لیے ایپل اسٹورز پہنچے۔ بعض خریدار رات بھر قطاروں میں کھڑے رہے، جبکہ کئی افراد پہلے سے کیے گئے آن لائن آرڈرز وصول کرنے آئے۔ محدود اسٹاک کے باعث ہر صارف کے لیے فون خریدنا ممکن نہیں تھا۔
ایپل نے فی صارف زیادہ سے زیادہ دو فونز کے پری آرڈر کی اجازت دی، جبکہ بعض ممالک میں فون صرف آن لائن آرڈر دینے والے صارفین کو فراہم کیا گیا۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اسٹور کھلنے سے پہلے ہی خریداروں کی قطاریں لگ گئیں، جبکہ نیو یارک میں بھی صارفین نئے فون کی خریداری کے لیے صبح سویرے پہنچے۔
فون کی قیمت اور خریداروں کا ردعمل
رپورٹس کے مطابق نئے فولڈ ایبل فون کی قیمت اور محدود دستیابی نے اسے مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک خریدار نے 512 جی بی اسٹوریج والا فون 3,899 آسٹریلوی ڈالر میں خریدا۔ دوسری جانب ہانگ کانگ میں بعض خریداروں نے فون دوبارہ فروخت کرکے منافع حاصل کرنے کی امید میں پری آرڈر کیے۔
چین میں بھی ایپل کے نئے فون کو صارفین کی دلچسپی حاصل ہوئی۔ بعض افراد پہلے ہی دوسری کمپنیوں کے فولڈ ایبل فون استعمال کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایپل کی مصنوعات پر اعتماد کے باعث نیا فون خریدنے کا فیصلہ کیا۔ سام سنگ اور ہواوے جیسی کمپنیاں کئی برس سے فولڈ ایبل فونز فروخت کر رہی ہیں۔ اب ایپل کی اس مارکیٹ میں آمد سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا کمپنی اس ٹیکنالوجی کو عام صارفین میں مقبول بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
ماہرین نے فون کے بارے میں کیا کہا؟
ابتدائی جائزوں میں فون کے ڈیزائن اور اس کے فولڈ ہونے والے حصے کو سراہا گیا ہے۔ فولڈ ایبل فونز کی اسکرین پر تہہ کا نمایاں نشان ایک عرصے سے اہم مسئلہ رہا ہے، تاہم نئے فون میں اس پہلو کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین نے کیمرے کی بعض محدود خصوصیات، ٹیلی فوٹو لینس کی عدم موجودگی اور تھرڈ پارٹی ایپس کو نئے ڈسپلے کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کی نشاندہی کی ہے۔ بعض ٹیکنالوجی مبصرین کے مطابق عام صارفین کو فوری طور پر یہ فون خریدنے کے بجائے اس کے مزید جائزوں اور عملی کارکردگی کا انتظار کرنا چاہیے۔
دوسری جانب بعض صارفین کا خیال ہے کہ فولڈ ایبل فون ایک ہی ڈیوائس میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ جیسی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ اگر یہ تصور عملی طور پر کامیاب رہا تو صارفین کو الگ ٹیبلٹ ساتھ رکھنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں ایپل کا مستقبل
مارکیٹ ریسرچ ادارے آئی ڈی سی کے مطابق ایپل کی آمد فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ادارے کی پیش گوئی کے مطابق 2026 میں فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں ایپل کا حصہ 44 فیصد جبکہ فروخت ہونے والے فونز کی تعداد میں 31 فیصد ہوسکتا ہے۔











