پی ٹی آئی کا لانگ مارچ،اندر کی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (ابلاغ نیوز)

پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کی حکمت عملی پر ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قیادت سے سخت سوالات اٹھا دیے۔ ارکان نے پوچھا کہ پلان اے، بی، سی اور ڈی کے دعوے تو کیے گئے، لیکن عملی منصوبہ کہاں ہے؟ بعض ارکان نے شکایت کی کہ لانگ مارچ کی حکمت عملی بناتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف ردعمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے خدشات، ارکان کی مبینہ گمشدگیوں اور آئندہ سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں بعض ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ ناکام حکمت عملی کے باعث ایک صوبے میں حکومت ہاتھ سے نکل گئی، جبکہ پارٹی کی جانب سے اس صورت حال پر مؤثر ردعمل دکھائی نہیں دیا۔ ارکان نے مطالبہ کیا کہ قیادت پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے کر آئندہ اقدامات کے لیے واضح اور قابل عمل منصوبہ پیش کرے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی ذمہ داری دینے اور سیاسی رابطوں میں ناکامی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔ ارکان نے تجویز دی کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے پارلیمانی فورم کو متحرک کیا جائے اور مؤثر سیاسی ردعمل دیا جائے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی مشاورت کی گئی کہ حکومت سے مذاکرات جاری رکھے جائیں یا احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ارکان کی اکثریت نے مذاکرات کے حق میں رائے دی، جبکہ نور الحق قادری نے تین مرتبہ مذاکرات پر زور دیا تو اجلاس میں موجود ارکان نے تالیاں بجا کر حمایت کا اظہار کیا۔

پارٹی قیادت پر اعتماد اور اختلافات بھی زیر بحث

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ مرکزی سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب فوزیہ ارشد نے میڈیا پر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف بیانات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پارٹی چیئرمین ان بیانات کی تحقیقات کریں۔

اجلاس میں مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیماری کے باوجود سہیل آفریدی کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی فکر تھی۔

اس موقع پر اسد قیصر نے سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ان رہنماؤں پر اعتماد کیا ہے۔ شفقت اعوان نے بھی پارٹی ارکان کو تنقید سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے ہی ارکان اور سہیل آفریدی پر الزامات لگانے سے پارٹی کمزور ہوگی۔

اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ بعض ارکان کے بیانات سے پارٹی کے اندر اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں، جبکہ حکومت کو مؤثر سیاسی جواب دینے کے بجائے باہمی الزام تراشی کی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی پارلیمانی صفوں میں سامنے آنے والے اختلافات کو کس طرح دور کرتی ہے اور مذاکرات یا احتجاج میں سے کس راستے کو ترجیح دیتی ہے۔ اجلاس میں مذاکرات کے حق میں سامنے آنے والی رائے اور لانگ مارچ کی حکمت عملی پر اٹھنے والے سوالات نے پارٹی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کو اہم بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں