تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز کمی

 

اسلام آباد (ابلاغ نیوز)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی امید نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا، تاہم مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت گزشتہ ہفتے ۱۱۷ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جو اب کمی کے بعد ۱۱۴ ڈالر ۸۵ سینٹ فی بیرل پر آ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی ۱۰۳ ڈالر فی بیرل کی سطح سے کم ہو کر ۱۰۰ ڈالر ۸۷ سینٹ فی بیرل رہ گئی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کی اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں اور امریکا ایران مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کی ملاقاتوں سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ نے عالمی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکی افواج آئندہ ۹۶ گھنٹوں کے دوران ایران پر حملہ کر سکتی ہیں۔ اس خبر کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید کمی محدود رہی۔

دوسری جانب سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات برقرار رکھے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ممکن ہے۔ تاہم جنگ میں شدت آنے یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

عالمی توانائی ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث توانائی کی عالمی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں آئندہ سال تک برقرار رہ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت رواں سال اپریل کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ حالیہ کمی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں اور معاشی حالات پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں